ساتواں مسئلہ: نماز پڑھنے کا طریقہ:

  1. نبی ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو قبلہ رخ ہو کر اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے اور ہتھیلی کا اندرونی حصہ قبلہ کی طرف رکھتے اور کہتے:
    « اللہ اکبرر».
  2. پھر بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ سے پکڑ کر سینے پر رکھتے
  3. پھر دعائے استفتاح پڑھتے جو ہمیشہ ایک ہی نہیں ہوتی تھی۔ اس سلسلہ میں جتنی دعائیں آپ سے ثابت ہیں وہ سب پڑھنا جائز ہے۔ ان میں سے ایک دعا یہ ہے:
    «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالى جَدُّكَ، وَلا إِلٰهَ غَيْرُكَ».
    اے اللہ! تو پاک ہے، تیری ہی تعریف ہے، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان سب سے اونچی ہے اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے"
  4. پھر کہتے
    «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ».
  5. پھر سورۂ فاتحہ پڑھتے اور اس کو ختم کرنے کے بعد آمین کہتے
  6. پھر جتنا میسر ہوتا اتنا قرآن کی تلاوت کرتے، فجر‘ مغرب اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں اونچی آواز میں تلاوت کرتے‘ اور ان کے علاوہ میں سری تلاوت کرتے۔ آپ کی پہلی رکعت ہمیشہ دوسری رکعت سے لمبی ہوتی
  7. پھر رفع الیدین کرتے جیسا کہ شروع میں رفع الیدین کیا تھا، پھر(الله أكبر) کہتے ہوئے رکوع میں جاتے پھر کھلی انگلیوں کے ساتھ دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں پر رکھتے، پیٹھ کو سیدھا اور سر کو اس کے بالکل برابر رکھتے نہ اوپر نہ نیچے، اور ایک مرتبہ یہ دعا پڑھتے:
    «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» ،
    " پاک ہے میرا رب، جو بڑی عظمت والا ہے"۔ اور تین مرتبہ کہنا کمال کا ادنی درجہ ہے جیسا کہ پہلے گزرا ہے
  8. پھر:
    «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»
    کہتے ہوئے سر اٹھاتے، اور رفع الیدین کرتے جیسے رکوع میں جاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے
  9. پھر سیدھے کھڑے ہو کر یہ دعا کہتے:
    «اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، مَلْءَ السَّمَاءِ، وَمَلْءَ الْأَرْضِ، وَمَلْءَ مَا بَيْنَهُمَا، وَمَلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ، وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» .
    ”اے اللہ! ہمارے رب! تیرے ہی لیے ہر قسم کی با برکت اور اچھی تعریف ہے، اتنی زیادہ کہ جس سے آسمان بھر جائیں، زمین بھر جائے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے وہ سب بھر جائے اور اس کے بعد ہر وہ چیز بھی بھر جائے جو تو چاہے، اے تعریف اور بزرگی کے لائق! سب سے سچی بات جو بندے نے کہی -جب کہ ہم سب تیرے ہی بندے ہیں- (یہ ہے کہ): اے اللہ! جو تو عطا فرمائے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں۔ اور کسی صاحبِ حیثیت کو اس کی حیثیت تیرے ہاں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔“1 آپ دیر تک اس حالت میں کھڑے رہتے
  10. پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدہ میں جاتے، اور اس جگہ رفع الیدین نہیں کرتے، پیشانی، ناک، دونوں ہاتھوں، گھٹنوں اور پیروں کی انگلیوں کے بل سجدہ کرتے، ہاتھ اور پیر کی انگلیاں قبلہ کی طرف ہوتیں، پیٹھ سیدھی رکھتے، پیشانی اور ناک زمین پر رکھتے‘ کہنیوں کو اٹھا کر ہتھیلیوں کے بل سجدہ کرتے، بازوؤں کو پہلؤں سے اور پیٹ کو رانوں سے دور رکھتے اور رانوں کو پنڈلیوں سے اٹھاکر رکھتے اور سجدہ کے دوران ایک مرتبہ کہتے:
    «سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى» ،
    اور تین مرتبہ کہنا کمال کا ادنی درجہ ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر وارد دعائیں بھی پڑھی جا سکتی ہیں
  11. پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سر اٹھاتے، پھر بایاں پیر بچھا کر اس پر بیٹھ جاتے اور دایاں پیر کھڑا رکھتے‘ پھر ہاتھوں کو رانوں پر رکھتے اور یہ دعا پڑھتے:
    «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاجْبُرْنِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي».
    ”اے اللہ! میرى مغفرت فرمادے، مجھ پر رحم فرما، میرا نقصان پورا کردے، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا کر۔
  12. پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدہ میں جاتے اور دوسری رکعت کو پہلی رکعت ہی کی طرح ادا کرتے
  13. پھر تکبیر کہتے ہوئے اپنا سر اٹھاتے اور گھٹنوں اور رانوں کے سہارے تلووں کے بل کھڑے ہوتے
  14. مکمل کھڑے ہو جانے کے بعد تلاوت شروع کرتے اور دوسری رکعت بھی پہلى رکعت کى طرح ادا کرتے
  15. پھر بائیں پیر کو بچھا کر پہلے تشہد کے لیے بیٹھتے جیسے دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھتے
    دایاں ہاتھ دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھتے، اور دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور درمیانی انگلی سے حلقہ کی شکل بنا کر شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے یہ دعا پڑھتے:
    « التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» »
    " ساری تعظیمات‘ سب دعائیں اور تمام پاکیزہ اقوال واعمال اللہ کے لئے ہیں، اے نبی آپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمت اور اس کی برکت نازل ہو، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد (ﷺ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں"۔ آپ پہلے تشہد میں مختصر بیٹھتے
  16. پھر تکبیر کہتے ہوئے کھڑے ہوتے اور تیسری اور چوتھی رکعتیں پہلی دو رکعتوں سے ہلکی ادا کرتے۔ ان میں بھی سورۂ فاتحہ پرھتے
  17. پھر تورک کے ساتھ آخری تشہد میں بیٹھتے۔ تورک کا طریقہ یہ ہے کہ نمازى اپنے بائیں پیر کو بچھا کر دائیں پیر کے نیچے سے نکالے اور دائیں پیر کو کھڑا رکھتے ہوئے زمین پر بیٹھے
  18. پھر تشہد اول ہی کی طرح تشہد اخیر کی دعا پرھتے۔ اس تشہد میں درود بھی پڑھتے:
    «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ».
    " اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد ﷺ پر اور آلِ محمد ﷺ پر جیسے تو نے رحمت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اور آلِ ابراہیم علیہ السلام پر، یقینََا تو قابلِ تعریف، بڑی شان والا ہے۔ اور برکت نازل فرما محمد ﷺ پر اور آلِ محمد ﷺ پر جیسے تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اور آلِ ابراہیم علیہ السلام پر، یقینََا تو قابلِ تعریف، بڑی شان والا ہے"
  19. اس تشہد میں جہنم کے عذاب، قبر کے عذاب، زندگی اور موت کے فتنہ، اور مسیح دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگتے۔ اس کے بعد کتاب وسنت میں وارد دیگر کوئی بھی دعا کی جا سکتی ہے
  20. پھر دائیں طرف یہ کہتے ہوئے سلام پھیرے:
    «السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ»،
    اسی طرح بائیں طرف بھی سلام پھیرے۔ قبلہ رخ ہو کر سلام شروع کرے اور پورے طور پر چہرہ کو گھمائے